TTAP assures PTI of support for September 27 long march
The Tehreek-i-Tahaffuz Ayeen-i-Pakistan has decided to develop a joint political, media and public outreach strategy for the planned September 27 long march.
The decision was taken during a meeting of the opposition alliance chaired by its head and Leader of the Opposition in the National Assembly Mahmood Khan Achakzai.
The alliance also agreed to increase contacts with other democratic political parties and work towards holding a multi-party conference.
TTAP assures PTI of support
During the meeting, TTAP leaders and representatives of other opposition parties assured the PTI leadership of their support for the planned protest.
The participants also agreed to coordinate with political forces outside the alliance as preparations for the September 27 activity continue.
According to the alliance, the planned march will remain peaceful and within what its members describe as constitutional and democratic principles.
The opposition parties said peaceful protest is a constitutional right of citizens and political parties.
They said there should be no departure from this principle during the planned political activity.
PTI leaders briefed the meeting about preparations for the September 27 protest.
They also discussed Khyber Pakhtunkhwa Chief Minister Sohail Afridi’s public outreach campaign during his visits to Sindh and Punjab.
تحریک تحفظِ آئین پاکستان کا اجلاس اتحاد کے سربراہ اور قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں اجلاس میں قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ ناصر عباس، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی و سیکرٹری جنرل تحریک تحفظ آئین پاکستان اسد قیصر ، بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل، زین شاہ، مصطفیٰ نواز کھوکھر، زبیر عمر، سینیٹر مشتاق احمد، صاحبزادہ حسن رضا، ساجد ترین ، تیمور جھگڑا، اخوانزادہ حسین یوسفزئی اور عمار جان، حامد حسین، ناصر شیرازی، سید اسد عباس، سید ظہیر عباس نقوی سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملکی سیاست ، مشرقَ وسطیٰ میں جاری بحران اور اُس کے پاکستان پر اثرات ، ناکام حکومتی معاشی پالیسیوں کے نتیجہ میں عوامی استحصال ، صوبہ بلوچستان و خیبر پختونخواہ میں ابتر امن و امان کی صورتحال اور مجوزہ ۲۸ ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام پر تفصیل سے غور و حوض کیا گیا۔ تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہی اجلاس میں تحریک انصاف کے قائدین نے ۲۷ تاریخ کے احتجاج اور وزیراعلی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کے دورہ سندھ اور پنجاب میں عوامی رابطہ مہم کی بابت شرکاء کو بریف کیا۔ اجلاس میں یہ قرار دیا گیا کہ پُر امن احتجاج عوام کا اور کسی بھی سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے اور اِس سے کسی بھی صورت انحراف نہیں کیا جا سکتا۔ بدقسمتی سے مُلک میں جاری جبر و فسطائیت، سیاسی اور انسانی حقوق کی معطلی اور ۲۶ ترمیم کے نتیجہ میں انصاف کے دروازوں کے مکمل طور پر بند ہو جانے کے بعد پُر امن احتجاج ہی وہ واحد رستہ بچتا ہے جس کو اختیار کر کے ارباب اختیار کو آئینی اور سیاسی حقوق کی بحالی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ۲۷ تاریخ اس ضمن میں ایک نکتہاے آغاز ہے اور اس تحریک کو مُلک کے کونے کونے میں پھیلا کر عوامی قوت کے بل بوتے پر عوام کا حقِ حکمرانی واپس لیا جائیگا۔ تحریک تحفظِ آئین پاکستان اور اُس میں شامل دیگر جماعتوں کے قائدین نے تحریک انصاف کی قیادت کو اپنی حمایت اور مُلک میں جاری سیاسی و معاشی بحران کے خاتمہ کے لئیے اتحاد کے علاوہ دیگر سیاسی قوتوں سے رابطہ کر کے اہم قومی مسائل پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کے لئیے رابطہ کاری کا یقین دلایا۔ شرکاء میں اس پر مکمل اتفاق تھا کہ مُلکی حالات یہ تقاضا کرتے ہیں کہ تمام جمہوری سیاسی قوتیں ملک کو بحران سے نکالنے کے لئیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ اس ضمن میں دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطہ کاری کے لئیے ذمہ داریاں اور کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ اجلاس میں آئین، پارلیمان، وفاقی نظام اور صوبائی حقوق کے تحفظ، این ایف سی اور صوبوں کے وسائل و اختیارات کے تحفظ پر اتفاق کیا گیا اور یہ قرار دیا گیا کے ایک غیر نمائندہ حکومت صوبوں کو توڑنے یا محض انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتی اور ایسی تجاویز فیڈیریشن ، قومی وحدتوں اور وفاقی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ہیں۔ آئینی شق ۲۳۹ کی موجودگی میں صوبوں کو اُن کے آئینی حق سے کسی ریفرینڈم یا کسی اور صورت میں قطاً محروم نہیں کیا جا سکتا خصوصاً سندھ کی موجودہ جغرافیائی و انتظامی حیثیت برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔ مزید برآں یہ بھی فیصلے کیے گئے کہ : 1. اجلاس میں کہا گیا کہ عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدآمد ہونے کی بجائے اس کو ایک مزید بحران بنا دیا گیا۔ اجلاس میں عمران خان ، اُن کی اہلیہ اور دیگر اسیران کی صحت اور ان سے ملاقات کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے براہِ راست ملاقات اور ان کی صحت سے متعلق درست معلومات کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔ 2. دریائے سندھ کے نظام میں پانی کی شدید کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس سے پاکستان کی ماحولیات، زراعت اور سندھ ڈیلٹا کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ اجلاس نے نئے کینال اور آبی منصوبے شروع نہ کرنے اور زیرِ تعمیر متنازع منصوبوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ 3. تمام جبری گمشدہ افراد کی فوری بازیابی، جو لاپتہ افراد وفات پا چکے ہیں ان کے جسدِ خاکی لواحقین کے حوالے کرنے، ٹارگٹ کلنگ، جعلی مقابلوں، ماورائے عدالت قتل اور ڈیتھ اسکواڈز کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ 4. ملک بھر میں تحریک انصاف کے کارکنان کے گھروں پر چھاپے، گرفتاریاں، چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے کی مذمت اور ملک بھر میں سیاسی قائدین اور کارکنوں کی گرفتاریاں اور بی وائے سی رہنماؤں سمیت سیاسی کارکنوں کی رہائی، سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات کے خاتمے، فورتھ شیڈول کے خاتمے اور پرامن عوامی و سیاسی سرگرمیوں کی مکمل اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ 5. بارڈر تجارت فوری بحال کرنے، مائنز اینڈ منرل ایکٹ کو مسترد کرنے اور قدرتی وسائل سے متعلق فیصلوں میں متعلقہ صوبوں اور مقامی آبادی کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ آپریشنز کی آڑ میں شہری آبادیوں کے انخلا کو روکنے پر بھی زور دیا گیا۔ 6. وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ پنجاب کے دوران روا رکھے گئے رویے کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر جمہوری قرار دیا گیا۔ کوہاٹ دھماکے کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ 7. مہنگائی، بے روزگاری، پٹرول کی قیمتوں، امن و امان اور دیگر عوامی مسائل کو 27 ستمبر کے احتجاج کے بنیادی ایجنڈے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 8. 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم سمیت آئینی معاملات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمان کے آئینی کردار، وفاقی نظام اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ پر زور دیا گیا۔ 9. خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے مؤثر سفارتی و ثالثی کردار کی حمایت کی گئی، جبکہ ایمان مزاری کی رہائی کے بعد دوبارہ گرفتاری کی مذمت کی گئی۔ 10. 27 ستمبر کے پروگرام کو مؤثر بنانے کے لیے مشترکہ سیاسی، میڈیا اور عوامی رابطہ حکمت عملی تشکیل دینے اور تمام جمہوری جماعتوں سے رابطے تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا۔ 11. اجلاس میں واضح کیا گیا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ پرامن، آئینی اور جمہوری جدوجہد ہوگی۔ متحدہ اپوزیشن نے آئین کی بالادستی، پارلیمان کی خودمختاری، صوبائی حقوق، شہری آزادیوں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
— Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan (@TTAP_OFFICIAL) September 18, 2026
Opposition seeks wider political unity
The meeting also focused on bringing more political parties together on a common platform.
The alliance agreed to accelerate contacts with other democratic forces and convene a multi-party conference on important national issues.
According to the statement, the purpose of the proposed conference is to discuss the country’s political and economic challenges.
The opposition alliance said it wants political forces to work together to address what it described as an ongoing national crisis.
It also called for cooperation among political parties beyond the existing alliance.
Committees and responsibilities have reportedly been assigned to coordinate with other parties and preparations for the proposed conference.
Alliance outlines its political demands
The united opposition said its political struggle would focus on several issues.
These include what the alliance describes as the supremacy of the Constitution, parliamentary sovereignty, provincial rights and civil liberties.
The parties also said they want public issues to remain part of their joint political campaign.
The alliance said the September 27 event would mark the beginning of a broader effort to take its political campaign to different parts of the country.
Its statement described the campaign as an attempt to press for what it considers constitutional and political rights.
These positions are those of the opposition alliance and reflect its stated political objectives.
Also Read:Fuel relief scheme crosses 1 million registrations, 800,000 tokens
Claims of political restrictions
During the meeting, participants also raised allegations of political repression and restrictions on political and human rights.
The alliance attributed what it described as reduced avenues for political and legal action to developments following the 26th Amendment.
It said peaceful protest was therefore an important means of expressing political demands.
These claims represent the opposition’s stated position and remain part of the broader political dispute between the government and opposition forces.
The alliance has not indicated that its planned activities will move away from peaceful political campaigning.
Instead, its statement repeatedly described the proposed march as peaceful, constitutional and democratic.
Multi-party conference planned
A major outcome of the meeting was the decision to work towards a multi-party conference.
The proposed MPC would bring together political forces from outside the TTAP alliance to discuss major national issues.
The opposition parties said the conference could provide a platform for discussions about the country’s political and economic situation.
Committees have already been formed to establish contacts with other political parties.
The alliance said there was consensus among participants that democratic political forces should work together on a single platform.
The exact date, venue and final list of participating parties for the proposed conference were not provided in the statement.